بنی اسرائیل میں عامل نامی مالدار کا ایک واقعہ

 بنی اسرائیل میں عامیل نامی ایک مالدار تھا اس کے چچا زاد بھائی نے بطمع وراثت اس کو قتل کر کے دوسری بستی کے دروازے پر ڈال دیا اور خود صبح کو اس کے خون کا مدعی بنا وہاں کے لوگوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے درخواست کی کہ آپ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالی حقیقت حال ظاہر فرمائے  ۔اس پر حکم ہوا کہ ایک گائے ذبح کر کے اس کا کوئی حصہ مقتول کے ماریں وہ زندہ ہو کر قاتل کو بتا دے گا۔کیوں کہ مقتول کا حال معلوم ہونے اور گائے کے ذبح میں کوئی مناسبت معلوم نہیں ہوتی ۔ایسا جواب جو سوال سے رابطہ نہ رکھے جاہلوں کا کام ہے یا یہ معنی ہے کہ محاکمہ کے موقع پر استہزہ جاہلوں کا کام ہے انبیاء کی شان اس سے برتر ہے القصہ جب ہی بنی اسرائیل نے سمجھ لیا کہ گائے کا ذبح کرنا لازم ہے   تو انہوں نے آپ سے اس کے اوصاف دریافت کیے حدیث شریف میں ہے کے اگر بنی اسرائیل بحث نہ نکالتے تو جو گائے ذبح کر دیتے کافی ہو جاتی۔

حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ انشاء اللہ نہ کہتے تو کبھی وہ گائے نہ پاتے مسئلہ ہر نیک کام میں انشاءاللہ کہنا  مستحب اور باعث برکت ہے۔یعنی اب تشفی ہوئی اور پوری شان و صفت  معلوم ہوئی پھر انہوں نے گائے کی تلاش شروع کی ان اطراف میں ایسی صرف ایک گائے تھی اس کا حال یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک صالح شخص تھے ان کا ایک صغیرالسن بچہ تھا اور ان کے پاس سوائے ایک گائے کے بچے کے کچھ نہ رہا تھا انہوں نے اس کی گردن پر مہر لگا کر اللہ کے نام پر چھوڑ دیا اور بارگاہ حق میں عرض کیا یا رب میں اس بچھیا کو اس فرزند کے لئے تیرے پاس ودیعت رکھتا ہوں جب یہ فرزند بڑا ہو یہ اس کے کام آئے ان کا تو انتقال ہو گیا بچھیا جنگل میں بحفاظ الہی پرورش پاتی رہی  یہ لڑکا بڑا ہوا اور بفضلہ صالح و متقی ہوا ماں کا فرمانبردار تھا ایک روز اس کی والدہ نے کہا اے نور نظر تیرے باپ نے تیرے لئے فلاں جنگل میں خدا کے نام پر ایک بچھیاں چھوڑ دی ہے وہ اب جوان ہو گئی اس کو جنگل سے لا اور  اللہ سے دعا کر کہ وہ تجھے عطا فرمائے لڑکے نے گائے کو جنگل میں دیکھا اور والدہ کی بتائی ہوئی علامتیں اس میں پائیں اور اس کو اللہ کی قسم دے کر بلایا وہ حاضر ہوئی جوان اس کو والدہ کی خدمت میں لایا والدہ نے بازار میں جا کر تین دینار پر فروحت  کرنے کا حکم دیا اور یہ شرط کی کی سودا ہونے پر پھر اس کی اجازت حاصل کی جائے اس زمانہ میں گائے کی قیمت ان اطراف میں تین دینا رہی تھی ۔جوان جب اسے گائے کو بازار میں لایا تو ایک فرشتہ خریدار کی صورت میں آیا اور اس نے گائے کی قیمت چھ دینار لگا دی مگر اس شرط  سے کہ جوان والدہ کی اجازت کا پابند نہ ہو جوان نے یہ منظور نہ کیا اور والدہ سے تمام قصہ کہا اس کی والدہ نے چھ دینار قیمت منظور کرنے کی اجازت دی مگر بیع میں پھر دوبارہ اپنی مرضی دریافت کرنے کی شرط کی  جوان پھر بازار میں آیا اس مرتبہ فرشتہ نے بارہ دینار قیمت لگائی اور کہاں کے والدہ کی اجازت پر موقوف نہ رکھو جوان نے نہ مانا اور والدہ کو اطلاع دی وہ صاحب فراست سمجھ گئی کہ یہ خریدار نہیں کوئی فرشتہ ہے جو آزمائش کے لئے آتا ہے بیٹے سے کہا کہ اب کی مرتبہ اس خریدار سے یہ کہنا کہ آپ ہمیں اس گائے کے فروخت کرنے کا حکم دیتے ہیں یا نہیں لڑکے نے یہی کہا فرشتہ نے جواب دیا ابھی اس کو روکے رہو جب بنی اسرائیل خریدنے آئیں تو اس کی قیمت یہ مقرر کرنا کے اس کی کھال میں سونا بڑھ دیا جائے جوان گائے کو گھر لایا اور جب بنی اسرائیل جستجو کرتے ہوئے اس کے مکان پر پہنچے تو یہی قیمت طے کی اور حضرت موسیٰ علیہ الصلٰوة و السلام کی ضمانت پر وہ گائے بنی اسرائیل کے سپرد کی۔

مسائل اس واقعہ سے کئی مسئلہ معلوم ہوئے 

١:  جو اپنے عیال کو اللہ کے سپرد کرے اللہ تعالی اس کی ایسی عمدہ پرورش فرماتا ہے۔

٢:  جو اپنا مال اللہ کے بھروسہ پر اس کی امانت میں دے اللہ اس میں برکت دیتا ہے۔

٣:  والدین کی فرمابرداری اللہ تعالی کو پسند ہے ۔

۴:  غینی فیض قربانی اور خیرات کرنے سے حاصل ہوتا ہے

۵:  راہ خدا میں نفیس مال دینا چاہیے 

٦:  گائے کی قربانی افضل ہے۔

بنی اسرائیل کے مسلسل سوالات اور اپنی رسوائی کا اندیشہ اور گائے کی گرانی قیمت سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ زبح کا قصد نہیں رکھتے مگر جب ان کے سوالات شافی جوابوں سے ختم کر دیے گئے تو انہیں ذبح کرنا ہی پڑا ۔بنی اسرائیل نے گائے ذبح کر کے اس کے کسی عضو سے مردہ کو مارا وہ بحکم الٰہی زندہ ہوا کس کے حلق سے خون کے فوارے جاری تھے اس نے اپنے چچا زاد بھائی کو بتایا کہ اس نے مجھے قتل کیا اب اس کو بھی اقرار کرنا پڑا اور حضرت موسٰی علیہ السلام نے اس پر قصاص کا حکم فرمایا اس کے بعد شرع کا حکم ہوا کہ مسئلہ قاتل مقتول کی میراث سے محروم رہے گا مسئلہ لیکن اگر کسی عادل نے باغی کو قتل کیا یا کسی حملہ آور نے جان بچانے کے لئے مدافعت کی اس میں وہ قتل ہو گیا تو مقتول کی میراث سے محروم نہ ہو گا ۔اور تم سمجھو کہ بے شک اللہ تعالی مردے زندہ کرنے پر قادر ہے اور روز جزا مردوں کو زندہ کرنا اور حساب لینا حق ہے ۔


Comments

Popular posts from this blog

آزاد کشمیر کا تعلیمی نظام

فرمان قائداعظم "کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے"